الور/جے پور،6/ اکتوبر (ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا) موصولہ اطلاع کے مطابق منگل کو عدالت نے راجستھان کے الور ضلع کے تھانہ غازی اجتماعی عصمت دری کے تمام 5 ملزموں کو مجرم قرار دیا۔ 4 کو عمر قید کی سزا اور پانچویں ملزم کو واقعہ کی ویڈیو وائرل کرنے پر 5 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ اجتماعی زیادتی کا یہ واقعہ خوفناک ہے، اس میں سزا ایسی ملنی چاہیے کہ عصمت دری کے واقعات کے تسلسل کا تدارک کیا جاسکے۔خیال رہے کہ یہ واقعہ 26 اپریل 2019 کو دن کی روشنی میں پیش آیا۔ اس میں شوہر کے سامنے بیوی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی تھی، اور سزا یافتہ مجرموں نے واقعہ کی ویڈیو بھی بناکر سوشل میڈیا پر وائرل کردیا تھا۔ اس کے وائرل ہونے کے بعد 2 مئی کو یعنی 6 دن بعد تھانہ غازی پولیس اسٹیشن میں معاملہ درج کیا گیا۔عدالت نے چاروں مجرموں اندراج، اشوک، چھوٹے لال اور ہنس راج کو عمر قید کی سزا سنائی ہے، ان پر ایک ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ ویڈیو وائرل کرنے کے الزام میں مجرم مکیش کو 5 سال کی سزا سنائی گئی۔ مقدمہ میں پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے کے صرف 16 دن بعد عدالت میں چالان پیش کردیا تھا۔
خیال رہے کہ اس واقعہ میں ایک نابالغ بھی مجرم ہے، الور کے جویوی نائل بورڈ میں اس کیخلاف سماعت جاری ہے۔غور طلب ہے کہ متأثرہ جوڑہ تھانہ غازی کا رہائشی تھا، موٹر سائیکل سے کہیں جارہا تھا۔ اسی دوران پانچ نوجوان نے اس جوڑے کا تعاقب کرکے اسے روک لیا۔ اس کے بعد سفاک بھیڑیئے نما مجرموں نے شوہر اور بیوی کو زبردستی جنگل کھینچ کر لے گئے۔ وہاں متأثرہ کے شوہر کے سامنے اجتماعی زیادتی کی گئی۔واقعہ کے بعد متاثرہ افراد تھانے گئے، لیکن پولیس نے یہ کہتے ہوئے کوئی مقدمہ درج نہیں کیا کہ وہ انتخابات میں مصروف ہیں۔جب معاملہ نے طوالت اختیارکی، تو راہل گاندھی بھی متاثرہ شخص سے ملنے ان کے گھر پہنچ گئے۔ اس کے بعد راہل گاندھی نے متاثرہ کے گھر سے دور میڈیا سے گفتگو کی۔خیال رہے کہ اجتماعی عصمت دری کے اس واقعہ کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ملک بھر میں عوام کا زبردست ردعمل سامنے آیا۔ اس کے بعد گہلوت حکومت نے بھی عجلت سے کام کیا۔